ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد وزیر اعلی کے اختیارات کا کیا بنے گا؟ کابینہ کا مستقبل کیا ہوگا،،
کیا ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد وزیر اعلی خیبر پختونخواہ کوئی حکم جاری کر سکتے ہیں؟؟؟
آئین کے مطابق ملک کے جس علاقے میں جب تک ایمرجنسی کا نفاذ رہے گا اس وقت تک مجلسِ شوریٰ یا پارلیمان کو اختیار حاصل ہو گا کہ وہ متاثرہ صوبے یا اس کے کسی حصے کے لیے ایسے معاملات پر قوانین بنا سکتی ہے، جو وفاقی قانون ساز فہرست یا متوازی قانون ساز فہرست میں درج نہ ہوں۔
کسی صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی مدت کے دوران وفاق کا انتظامی اختیار صرف یہ ہدایات دینے تک ہو گا کہ مذکورہ صوبے کے انتظامی اختیار کو کس طرح استعمال کیا جائے۔
آرٹیکل 232 کے مطابق ایمرجنسی کے نفاذ کی صورت میں وفاقی حکومت صوبے کا انتظام خود سنبھال سکتی ہے یا صوبے کے گورنر کو ہدایت دے سکتی ہے کہ وہ وفاقی حکومت کی طرف سے صوبائی حکومت کے تمام یا چنندہ فرائض اور صوبے میں صوبائی اسمبلی کے علاوہ کسی بھی ادارے یا اختیار کو دیے گئے یا قابل استعمال اختیارات سنبھالے۔
تاہم آئین میں واضح ہے کہ اس صورتحال میں کسی بھی صورت میں وفاقی حکومت کو یہ اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ خود ہائیکورٹ کے اختیارات سنبھالے یا صوبے کے گورنر کو اپنی طرف سے ایسا کرنے کو کہے، یا ہائیکورٹ سے متعلق آئین کی کسی بھی شق کو مکمل یا جزوی طور پر معطل کرے۔
آئینِ پاکستان کے جس آرٹیکل کے تحت صوبے میں ہنگامی حالت نافذ کی جا سکتی ہے اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آرٹیکل میں کوئی بھی چیز صوبائی اسمبلی کے کسی بھی قانون کو بنانے کے اختیار کو محدود نہیں کرے گی جو اسے آئین کے تحت بنانے کا اختیار ہے۔
لیکن اگر کسی صوبائی قانون کی کوئی شق اس ایکٹ آف پارلیمنٹ کی کسی شق کے خلاف ہو جس کا پارلیمان کو ہنگامی حالت کے نفاذ کے ایکٹ کے تحت بنانے کا اختیار حاصل ہے تو پارلیمنٹ کا بنایا گیا قانون چاہے صوبائی قانون سے پہلے منظور ہو یا بعد میں، اس وقت تک غالب رہے گا جب تک ہنگامی حالت کا نفاذ باقی رہتا ہے۔
ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان پارلیمان کے اس مشترکہ اجلاس کے سامنے رکھا جاتا ہے، جو صدر کی طرف سے اعلان کے اجرا کے 30 دن کے اندر بلایا جانا لازم ہے اور یہ ایمرجنسی دو ماہ کی میعاد مکمل ہونے پر ختم بھی ہو جائے گی، تاوقتیکہ میعاد ختم ہونے سے پہلے مشترکہ اجلاس کی قرارداد کے ذریعے اس کا نفاذ دوبارہ منظور نہ کیا جائے۔
آئین کے مطابق اگر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس دونوں ایوانوں کے کل اراکین کی اکثریت سے ایمرجنسی کے نفاذ کو مسترد کر دے تو اس صورت میں بھی ایمرجنسی کا نفاذ باقی نہیں رہے گا۔
